Meray rangrez meri saans
Woh jo tujh ko poojtaa aaya hey
تم اپنا ہاتھ دے
جاؤ
یہ جو لذت ِ عمر ِ دوام ہے
یہ فنا در فنا کا سلسلہ
یہ بھی عجب ٹھرا
ھوا جو پہلے اسیر کب تھی
ھم تو سمجھے تھے کہ
موسموں کی ساعتوں میں
گئے بھادوں کی بارش سے
کوئی مزاجِ یار کا حوصلہ
کھڑکیوں سے بارش تو
عجب ہی ہو گیا اب تو
عجب فقیر کر دیئے گئے ہیں
روک ہی لیتے
دور کہکشاوں کی
دلِ وحشی کو رام کر
چلو بھول جائیں
جو اہلِ سما میں روشن ہے
پھر دل سے دل ملا
بعد مدت کے پھر ہوئی بارش
بارشوں کے زور سے رات
اور نقطہ ِ آغاز
اس نے ھونے نہ دیا
زندگی تو خود ہی سے