زندگی تو خود ہی سے
زندگی تو خود ہی سے
رفتہ رفتہ گزرے گی
آخر زندگی ٹھہری
چاہے تنہائی کی رونق ہو
چاہے تم میسر ہو
وابستگی تو خود ہی سے
آھستہ آھستہ اترے گی
آخر وابستگی ٹھہری
چاہے لاکھ کوششیں کر لو
چاہے تھک ہار چھوڑ ڈالو
دھونے سے نہیں ھو گا
سرخیِ لہو تو خود ہی سے
آھستہ آھستہ اترے گی
لہو کی سرخی جو ٹھہری!
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
