یہ جو لذت ِ عمر ِ دوام ہے
یہ جو لذت ِ عمر ِ دوام ہے
پھیکی ہے گر اجل نہ ہو
جو سکوں میسر ہے اس دفعہ
کہ اب تو تُو بھی مخل نہ ہو
کن عملوں کی بات کرے ہی تو
کہ تیرا عمل ، ہی عمل نہ ہو
تجھے دیکھ کر اب بھی ممکن نہیں
کہ میرا دل اتھل پتھل نہ ہو
تو مٹ چکا ہو کب سے حسن
جو کریموں کا فضل نہ ہو
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
