ھوا جو پہلے اسیر کب تھی
ھوا جو پہلے اسیر کب تھی
ہوا کہاں پہ اسیر اب یے؟
جو ھاتھ پہ بمشکل دکھائی دیتی
وہ سب سے واضح لکیر اب ہے
یہ دل سفر پر گیا تھا سیہون
کبھی جو شاہ تھا فقیر اب ہے
میں ابھی تو حی و قیوم ہوا ہوں
حسین میرا ضمیر اب ہے
ہے جو بھی کچھ باہر دکھائی دیتا
وہ پہلے اندر نظیر سب ہے
وہ بعد مرشد کے کیا اور بولے؟
حسن جو کب سے مہر بلب ہے۔
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
