اس نے ھونے نہ دیا
اس نے ھونے نہ دیا
اور پھر ہونے دیا
پہلے چاہا ھی نہیں
لیکن مگر ہونے دیا
کل رات بارش نے کھڑکیوں کو
اک لمحہ بھی سونے نہ دیا
جو برسوں سے ہم چاہتے تھے
تیرے لفظوں نے ہونے نہ دیا
ایک تو نومبر کی رات تھی
پھر چاند نے سونے نہ دیا
مجھے چھوٹی سی پگڈنڈی نے
گاؤں تک کھونے نہ دیا
ایک خدشے نے یقیناً دعا
کو بھی پورا ہونے نہ دیا
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
