یہ فنا در فنا کا سلسلہ
یہ فنا در فنا کا سلسلہ
بقا در بقا کا راز ہے
یہ جو تار تار ہے ہل رہا
اصل حیات کا ساز ہے
تیری تھکی سی آنکھ تیرا الجھا پن
تیرے رتجگے کا غماز ہے
میرے واسطے بھیجتا ہے رزق
جو خواجہ غریب نواز ہے!
فقط حسین ہی ہے کائنات میں
جو اٹھاتا توحید کے ناز ہے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
