چلو بھول جائیں
چلو بھول جائیں
سارے طریق
سارے گلے
سارے لازم و ملزوم سب
سارے “ایسے” ہونا چاہیے تھا
سارے “ویسا ” کہتے تو اچھا تھا
چلو توڑ ڈالیں
سارے طور رابطوں کے
سارے سلیقے ضابطوں کے
سارے ھجر، سارے رنج
سارے زنداں ، سارے کُنج !
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
