دلِ وحشی کو رام کر
دلِ وحشی کو رام کر
اور وہی ان کہی عام کر
جو کہنا ہے ، کہ ہی دے آخر
نہ رکھ کلیجہ تھام کر
اس بار تا آخری رمق جاں نکال
کوئی تو مکمل کام کر
جو تو ھو تو خزاں کے چاند کو
اس سال روک لوں بام پر
جاری کر طریقِ مرشد حسن
پابجولاں رقصِ عام کر۔۔۔
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
